مرا پڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے

احمد علوی

مرا پڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے

احمد علوی

MORE BYاحمد علوی

    مرا پڑوسی کوئی مال دار تھوڑی ہے

    یہ کار بینک کی ہے اس کی کار تھوڑی ہے

    ہر ایک ملک میں جائیں گے کھائیں گے جوتے

    کہ بزدلوں میں ہمارا شمار تھوڑی ہے

    خدا کا شکر ہے چکر کئی سے ہیں اپنے

    بس ایک بیوی پہ دار و مدار تھوڑی ہے

    گلے میں ڈال کے باہیں سڑک پہ گھومیں گے

    ہے نقد عشق ہمارا ادھار تھوڑی ہے

    ہمارا پیار جو قاضی نکاح تک پہونچے

    ہمارے بیچ کوئی اتنا پیار تھوڑی ہے''

    جو فون بند رکھوں کال نہ اٹھاؤں میں

    کسی کے باپ کا مجھ پہ ادھار تھوڑی ہے

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY