یہ ساس ہے کہ شیر چھپا ہے نقاب میں

راجہ مہدی علی خاں

یہ ساس ہے کہ شیر چھپا ہے نقاب میں

راجہ مہدی علی خاں

MORE BYراجہ مہدی علی خاں

    یہ ساس ہے کہ شیر چھپا ہے نقاب میں

    اللہ کسی کو ساس نہ دیوے شباب میں

    حیراں ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں

    سوتی ہے وہ سنبھالتی ہوں سارے گھر کو میں

    بلو کو چپ کراؤں کہ ماروں قمر کو میں

    فرش زمین دھوؤں کہ مانجوں ککر کو میں

    رو رو کے یاد کرتی ہوں فادر پدر کو میں

    دکھتی ہے ساس ہی مجھے دیکھوں جدھر کو میں

    ہر اک سے پوچھتی ہوں کہ دیکھوں کدھر کو میں

    ناز و ادا سے تھام کے اپنی کمر کو میں

    جب اپنا دکھ سناؤں قمر کے پدر کو میں

    کہتے ہیں دیکھ آگ لگا دوں گا گھر کو میں

    اچھا یہی ہے ڈھونڈ لے راحت عذاب میں

    خوشیوں کا ذکر کفر ہے میری جناب میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے