ایلین
انتخاب کاپی پیسٹ کرتی لڑکی
جذبات برابر کاپی پیسٹ نہیں ہوتے
نہ چاہتے ہوئے تمہیں کچھ نظمیں پڑھنی چاہئیں
ان نظموں کی خواہشات کے برعکس تمہیں بنانا چاہیے اپنا پورٹریٹ
کوئی رنگ ہو کے صرف کینوس بن کے رہ گیا ہے
تم پہ لکھی کتابوں کے سر ورق تمہیں نہیں پڑھنے چاہئیں
تم پہلی نہیں ہو جس نے نا پسندیدہ مردوں کا عذاب جھیلا ہے
تم اس عورت کے لئے لکھی نظمیں پڑھو جس کے حصے میں کچھ دہائیوں کا میریٹل ریپ آیا ہے
تمہارے خود کو لکھے خطوں کے جواب کبھی نہیں آئیں گے
سراب اور کیکٹس پسند کرنے والوں کے قریب تتلیاں نہیں بھٹکتیں
جس طرح شاعر اپنے دکھوں کی فہرست تھامے سوگ میں نہیں رہ سکتا
تمہیں خود کلامی کی سینکڑوں جھیلیں پار کرنی ہیں
اپنے سبھی ان دیکھے دکھوں کی پڑیا نا معلوم پتے پہ پوسٹ کر دو
تمہارا گمشدہ خدا کہیں مسکرا رہا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.