Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دستخط

MORE BYمحسن خالد محسن

    کسی کو چنتے وقت

    ہم ایک دروازے پر دستخط کرتے ہیں

    اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا

    اس کے پیچھے روشنی ہے

    یا وہ اندھیرا

    جو روشنی کا بھیس بدل کر کھڑا ہے

    ہم چہرہ دیکھتے ہیں

    اور چہرے اکثر مکمل سچ نہیں ہوتے

    دل ایک چراغ جلاتا ہے

    عقل دیوار سے ٹیک لگا کر

    ہمارا تماشا دیکھتی رہتی ہے

    اور اندر سے ایک آواز ابھرتی ہے

    چاہو

    مگر خود کو مت کھو دینا

    ہم اس آواز کو خاموش کر دیتے ہیں

    خواہشوں کے کاغذ پر

    دلائل لکھتے ہیں

    اور آگے بڑھ جاتے ہیں

    پھر حدیں نرم پڑنے لگتی ہیں

    سرحدیں تحلیل ہو جاتی ہیں

    کوئی اتنا اچھا لگتا ہے

    کہ ذات کا وزن کم ہونے لگتا ہے

    کوئی اتنا قریب آتا ہے

    کہ روح میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے

    یہیں سے توازن ٹوٹتا ہے

    محبت

    جب حد سے گزر جائے

    عبادت نہیں رہتی

    حصار بن جاتی ہے

    ہم دوڑتے ہیں

    بے پرکھے

    بے آنکے

    اپنی ہی بنائی ہوئی منزل کی طرف

    اور راستے میں

    خواب ٹھوکر کھا کر گرنے لگتے ہیں

    خواہشیں سانس چھوڑ دیتی ہیں

    خوشیاں سمت بھول جاتی ہیں

    پھر بھی ہم دوڑتے رہتے ہیں

    یہ دنیا

    ہماری رفتار کی پابند نہیں

    یہ اکثر اچھے کو

    اس کے برعکس نتیجے میں ڈھال دیتی ہے

    محنت کا پھل

    ہمیشہ میٹھا نہیں ہوتا

    کبھی وہ شکل بدل کر

    ہتھیلی پر زخم رکھ دیتا ہے

    اور جب منزل

    ہمیں قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے

    ہم دیواروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں

    راستوں پر مقدمہ چلاتے ہیں

    دنیا کو بے وفا کہتے ہیں

    مگر اس لمحے

    کوئی نہیں سنتا

    کیونکہ سفر کے آغاز میں

    ایک آواز تھی

    جو ہمیں سننی چاہیے تھی

    ہر انجام

    کسی ابتدائی خاموشی کا نتیجہ ہوتا ہے

    اور محبت

    ہمیشہ باہر سے نہیں ٹوٹتی

    کبھی کبھی

    وہ حد سے آگے بڑھ جانے کے بوجھ تلے

    خود ہی بکھر جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے