دستخط
کسی کو چنتے وقت
ہم ایک دروازے پر دستخط کرتے ہیں
اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا
اس کے پیچھے روشنی ہے
یا وہ اندھیرا
جو روشنی کا بھیس بدل کر کھڑا ہے
ہم چہرہ دیکھتے ہیں
اور چہرے اکثر مکمل سچ نہیں ہوتے
دل ایک چراغ جلاتا ہے
عقل دیوار سے ٹیک لگا کر
ہمارا تماشا دیکھتی رہتی ہے
اور اندر سے ایک آواز ابھرتی ہے
چاہو
مگر خود کو مت کھو دینا
ہم اس آواز کو خاموش کر دیتے ہیں
خواہشوں کے کاغذ پر
دلائل لکھتے ہیں
اور آگے بڑھ جاتے ہیں
پھر حدیں نرم پڑنے لگتی ہیں
سرحدیں تحلیل ہو جاتی ہیں
کوئی اتنا اچھا لگتا ہے
کہ ذات کا وزن کم ہونے لگتا ہے
کوئی اتنا قریب آتا ہے
کہ روح میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے
یہیں سے توازن ٹوٹتا ہے
محبت
جب حد سے گزر جائے
عبادت نہیں رہتی
حصار بن جاتی ہے
ہم دوڑتے ہیں
بے پرکھے
بے آنکے
اپنی ہی بنائی ہوئی منزل کی طرف
اور راستے میں
خواب ٹھوکر کھا کر گرنے لگتے ہیں
خواہشیں سانس چھوڑ دیتی ہیں
خوشیاں سمت بھول جاتی ہیں
پھر بھی ہم دوڑتے رہتے ہیں
یہ دنیا
ہماری رفتار کی پابند نہیں
یہ اکثر اچھے کو
اس کے برعکس نتیجے میں ڈھال دیتی ہے
محنت کا پھل
ہمیشہ میٹھا نہیں ہوتا
کبھی وہ شکل بدل کر
ہتھیلی پر زخم رکھ دیتا ہے
اور جب منزل
ہمیں قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے
ہم دیواروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں
راستوں پر مقدمہ چلاتے ہیں
دنیا کو بے وفا کہتے ہیں
مگر اس لمحے
کوئی نہیں سنتا
کیونکہ سفر کے آغاز میں
ایک آواز تھی
جو ہمیں سننی چاہیے تھی
ہر انجام
کسی ابتدائی خاموشی کا نتیجہ ہوتا ہے
اور محبت
ہمیشہ باہر سے نہیں ٹوٹتی
کبھی کبھی
وہ حد سے آگے بڑھ جانے کے بوجھ تلے
خود ہی بکھر جاتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.