Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دیوی

MORE BYمنصور ارحم

    وہ ہیولے سے بھی پہچانی جاتی ہے

    روپ بدلنے کا جتن کرنا کتنا مشکل کتنا آسان ہے صرف وہی جانتی ہے

    بے چین روح کو شانت کرنے کے ہنر اس کو آداب بجا لاتے ہیں

    خوف کی لکیر پیٹنے والے سادھو کو بتا رہی تھی

    غلط پتوں پہ مہریں لگانے والے

    کنگال ہنر لوگ سانس کے دائمی مسائل کا شکار ہیں

    چڑھتے دریا کی اترتی مچھلی

    ویران سینے پہ وحشت کے پھول اگا رہی ہے

    خوشی بہانہ وجہ شاید جیسے لفظی بند کسی کمی پہ روک لگا سکیں گے

    مگر کھینچا تانی ایسی لگی ہے کہ حرف حرف مٹا رہی ہے

    ایسے وقتوں کا کل سہارا یاداشت ہی تو ہے

    اسے پکارا نہ پکارا سب رائیگاں سب برابر

    ہر رنگ ہر دھاگا ہر چڑھاوا خالی کجاوا ہے

    جلتے دیپ کی کون سنتا ہے

    یہ اس کی گونگی آواز ہے جس میں لن ترانی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے