دیوی
وہ ہیولے سے بھی پہچانی جاتی ہے
روپ بدلنے کا جتن کرنا کتنا مشکل کتنا آسان ہے صرف وہی جانتی ہے
بے چین روح کو شانت کرنے کے ہنر اس کو آداب بجا لاتے ہیں
خوف کی لکیر پیٹنے والے سادھو کو بتا رہی تھی
غلط پتوں پہ مہریں لگانے والے
کنگال ہنر لوگ سانس کے دائمی مسائل کا شکار ہیں
چڑھتے دریا کی اترتی مچھلی
ویران سینے پہ وحشت کے پھول اگا رہی ہے
خوشی بہانہ وجہ شاید جیسے لفظی بند کسی کمی پہ روک لگا سکیں گے
مگر کھینچا تانی ایسی لگی ہے کہ حرف حرف مٹا رہی ہے
ایسے وقتوں کا کل سہارا یاداشت ہی تو ہے
اسے پکارا نہ پکارا سب رائیگاں سب برابر
ہر رنگ ہر دھاگا ہر چڑھاوا خالی کجاوا ہے
جلتے دیپ کی کون سنتا ہے
یہ اس کی گونگی آواز ہے جس میں لن ترانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.