اوٹ سے
سنی سنائی ہے دنیا میں ساری اچھی باتیں ہو چکی ہیں
ایک فوٹو گرافر بہ ضد ہے سب سے اچھے جھوٹ کیمرا بولتا ہے
مصنوعی ذہانت کسی کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگاتی
وہ جانتی ہے تخلیق پیچیدہ مرحلہ ہے
نو ماہ پیٹ اور کچھ دہائیاں دنیا کے خرابوں میں گزارنے والا
تخلیق کے اتھل پتھل کربناک مرحلوں سے گزرتا ہے
جیسے روئی دھاگا ہو کے کپڑا بنتے خون چوستی ہے سستے مزدوروں کا
نبض کاٹنے کے لئے سات روپے کا بلیڈ اور کپڑے کے لئے ایک قینچی
بگاڑ اتنی آسان ہو سکتی ہے
آدمی مر رہا ہے سرمائے کی بمباری سے
اناج کی دوری سے
اور سوچو وجوہات کے کتابچے میں آخری وجہ کیا لکھی ہے
جذبوں کی سپلائی چین ٹوٹ جانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.