سناٹے
کیا ہر خاموشی سناٹا ہوتی ہے
کیا ہر ویرانی خالی پن بن جاتی ہے
یا سناٹا شاید وہی ہے
جب خود کی آواز
خود تک نہ پہنچے
سناٹے کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے
جو دل کے سب سے گہرے کونوں سے باتیں کرتی ہے
شور میں جو سچ دب جاتے ہیں
وہ سناٹے میں دھیرے دھیرے اجاگر ہوتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.