سوری
تم سوری کہہ کر جا چکیں
لیکن میرا بیزار وجود فٹ پاتھ پر ٹھہرا رہا
لاچار بھکاری کی طرح
اس بات پر کون بحث کرے گا
گر خدا یک طرفہ محبت کو ماننے سے انکار کر دے
اس میں کچھ مصلحت نہیں کہ میں اکیلا تمام عمر محبت کا علم لہراتا رہوں
ہم دونوں کا ساتھ بیش قیمت ہے
کہ میری کم گوئی اور تمہاری تنہائی کو فنا ملے
ہم ایک محفل جما سکتے ہیں
ہم خدا پر تبصرہ کر سکتے ہیں
ہم قدیم فلسفے جھٹلا کر نئے فلسفے تخلیق کر سکتے ہیں
ہم بے باکی میں اک دوجے کے ہونٹ چوم سکتے ہیں
ہم اپنی روحوں کو زندگی عطا کر سکتے ہیں
ہم دونوں مل کر مکمل ہوں گے
دو ہاتھوں سے جنگ لڑنے والا سپاہی مایوس نہیں ہوتا
یقیناً دو کا ہونا مکمل ہونا ہے
سو اس سوری کو ڈلیٹ فار ایوری ون کر کے
ہماری چند لمحاتی ملاقات سے ختم کر دو
اور ہوا کی طرح مجھ میں سما جاؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.