Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ترکہ

MORE BYمحسن خالد محسن

    میں نے بہت سی نظمیں ایسی لکھی ہیں

    جو کسی کے احساس سے چرائی گئیں

    کچھ میں نے بغیر پوچھے چھپا لیں

    کچھ اجازت لے کر سنبھال لیں

    اور کچھ دام دے کر خرید لیں

    نظمیں میراث میں نہیں آئیں

    یہ اس ترکے سے آئیں

    جو ہمارے خاندان کو ملا ہی نہیں

    جب بھی کوئی نظم لکھی

    لگتا ہے یہ آخری نظم ہے

    لیکن کوئی آخری نظم

    آخری نہیں ہوتی

    اینٹ جب دفن ہوتی ہے

    تو اگلی اینٹ کے مدفن کا سبب بنتی ہے

    ایک ایک پتھر کو تراشا جائے

    تو راستہ بنتا ہے

    میں نے اپنے اندر کے چٹیل میدان کو

    ریزہ ریزہ کاٹ کر ہموار کیا ہے

    تاکہ بھٹکنے والے مسافروں کو

    منزل کا سراغ دکھائی نہ دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے