ترکہ
میں نے بہت سی نظمیں ایسی لکھی ہیں
جو کسی کے احساس سے چرائی گئیں
کچھ میں نے بغیر پوچھے چھپا لیں
کچھ اجازت لے کر سنبھال لیں
اور کچھ دام دے کر خرید لیں
نظمیں میراث میں نہیں آئیں
یہ اس ترکے سے آئیں
جو ہمارے خاندان کو ملا ہی نہیں
جب بھی کوئی نظم لکھی
لگتا ہے یہ آخری نظم ہے
لیکن کوئی آخری نظم
آخری نہیں ہوتی
اینٹ جب دفن ہوتی ہے
تو اگلی اینٹ کے مدفن کا سبب بنتی ہے
ایک ایک پتھر کو تراشا جائے
تو راستہ بنتا ہے
میں نے اپنے اندر کے چٹیل میدان کو
ریزہ ریزہ کاٹ کر ہموار کیا ہے
تاکہ بھٹکنے والے مسافروں کو
منزل کا سراغ دکھائی نہ دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.