نصف ہجر کے دیار سے

سعید احمد

نصف ہجر کے دیار سے

سعید احمد

MORE BYسعید احمد

    ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر

    جدائیوں کے سفر پہ نکلے تھے تم

    مگر کیوں

    رکے ہوئے ہو

    یقین خفتہ گمان پختہ کے پانیوں پر

    جہاں پہ اول محبتوں کے کنول کھلے تھے

    ابھی وہیں ہو!

    جدائیوں کے سفر پہ جا کر بھی اب تلک تم

    گئے نہیں ہو!

    چلے بھی جاؤ

    چلے بھی جاؤ

    کہ گمشدہ ذات کے خزینے کی کنجیاں ڈھونڈنی ہیں میں نے

    سکوت صوت و صدا کے پردے میں طرز گفتار سیکھنی ہے

    نکل کے موجودہ وقت کے بے دریچہ بے در حویلیوں سے

    مجھے ملاقات سوچنی ہے

    بہت سی بے نام غیر محدود ساعتوں کی سہیلیوں سے

    چلے بھی جاؤ

    بس اس سے پہلے

    کہ موم لمحہ پگھل ہی جائے

    کہ جبر آغاز ہو شبوں کا

    کہ سوچ رستہ بدل ہی جائے

    چلے بھی جاؤ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY