Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عالم کتنے

جاں نثار اختر

عالم کتنے

جاں نثار اختر

MORE BYجاں نثار اختر

    اف یہ شبنم سے چھلکتے ہوئے پھولوں کے ایاغ

    اس چمن میں ہیں ابھی دیدۂ پر نم کتنے

    کتنے غنچے ہیں جگر چاک گلستاں میں ابھی

    ہر طرف زخم ہیں بے منت مرہم کتنے

    کتنے سینوں میں شکستہ ہیں ابھی دل کے رباب

    لب خاموش پہ ہیں نغمۂ ماتم کتنے

    کتنے ماتھوں کے ابھی سرد ہیں رنگین گلاب

    گرد افشاں ہیں ابھی گیسوئے پر خم کتنے

    ذہن آدم میں ہے افکار کی دنیا آباد

    قلب انساں میں امانت ہیں ابھی غم کتنے

    دھندلے دھندلے سے ستارے ہیں افق پر لرزاں

    زندگانی کے حسیں خواب ہیں مبہم کتنے

    آج تو کاکل گیتی نہ سنور جائے گی

    سلسلے شوق کے ہوں گے ابھی برہم کتنے

    جذب ہوں گے ابھی اس خاک چمن میں اے دوست

    اشک بن بن کے گہر ریزۂ شبنم کتنے

    ابھی گونجیں گی سلاسل کی صدائیں کتنی

    اور ہوں گے ابھی زنجیر سے ماتم کتنے

    زندگی راہ تصادم میں بھٹکتی ہے ابھی

    وقت کے لب پہ ابھی عذر ہیں پیہم کتنے

    اک ذرا صبر کہ ان سرخ گھٹاؤں کے تلے

    سرنگوں ہوں گے یہاں خاک پہ پرچم کتنے

    لالہ و گل کے تبسم سے شفق پھولے گی

    ہر طرف رنگ نظر آئیں گے باہم کتنے

    خون دل میں ہے نہاں شعلۂ صد رنگ بہار

    اس گلستاں میں ہیں اس راز کے محرم کتنے

    انہی ذروں سے ابھر آئیں گے کتنے مہ و مہر

    اسی عالم سے سنور جائیں گے عالم کتنے

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Nazmen (Pg. 27)
    • Author : idarah adab lateef
    • مطبع : Maktaba Urdu lahore (1945)
    • اشاعت : 1945

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے