چاند کا قرض

سارا شگفتہ

چاند کا قرض

سارا شگفتہ

MORE BY سارا شگفتہ

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں

    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی

    اور اپنا اپنا بین ہوئے

    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے

    میں نے موت کے بال کھولے

    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی

    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی

    شام دوغلے رنگ سہتی رہی

    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے

    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں

    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں

    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے

    سجدوں سے سر اٹھا لو

    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    chand ka qarz عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites