خطائے بزرگاں

زبیر رضوی

خطائے بزرگاں

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    پرانی بات ہے

    لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے

    ہوا اک بار یوں

    ان کے بزرگوں نے

    زمیں میں کچھ نہیں بویا

    فقط انگور کی بیلیں اگائیں

    اور مٹی کے گھڑوں میں مے بنائی

    رات جب آئی

    ان کے بدن ننگے تھے

    پہلی بار

    مے کا ذائقہ ہونٹوں نے چکھا تھا

    حکایت ہے

    برہنہ دیکھ کر اپنے بزرگوں کو

    جواں بیٹوں نے آنکھیں بند کر لیں

    اور مٹی کے گھڑوں کو توڑ ڈالا

    صبح سے پہلے

    زمیں ہموار کی

    اور اس میں ایسے بیج بوئے

    جن کے پھل پودے

    کبھی ان کے بزرگوں کے نہ کام آئے

    مآخذ:

    • کتاب : purani baat hai (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY