آغاز

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئی

    چائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہے

    راکھ کو ہاتھ لگاتی ہو تو جل جاتا ہے

    ایک بھی کام سلیقے سے نہیں ہو پاتا

    ایک بھی بات محبت سے نہیں کہتی ہو

    اپنی ہر ایک سہیلی سے خفا رہتی ہو

    رات بھر ناولیں پڑھتی ہو نہ جانے کس کی

    ایک جمپر نہیں سی پائی ہو کتنے دن سے

    بھائی کا ہاتھ بھی غصے سے جھٹک دیتی ہو

    میز پر یوں ہی کتابوں کو پٹک دیتی ہو

    کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئی

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 144)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY