آج پھر درد اٹھا

چندر بھان خیال

آج پھر درد اٹھا

چندر بھان خیال

MORE BYچندر بھان خیال

    آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میں

    آج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گے

    آج پھر کرب کے شعلوں کو ہوا دوں گا میں

    اور کچھ لوگ بجھانے کو چلے آئیں گے

    آگ سے آگ بجھی ہے نہ بجھے گی لیکن

    درد کو آگ کے دریا میں اترنا ہوگا

    آگ اور درد کے معیار پرکھنے کے لئے

    ان اندھیروں کی فصیلوں سے گزرنا ہوگا

    میں اندھیروں کی رفاقت سے نہیں ہوں بیزار

    شام تنہائی اندھیرا بھی بھلا لگتا ہے

    حیف صد حیف کہ منکر تھا زمانہ جس کا

    آج وہ جرم مکانوں میں ہوا لگتا ہے

    لاکھ کمرے کو ٹٹولا بھی مگر کچھ نہ ملا

    فرش پر خون کی دو چار لکیروں کے سوا

    جنگ اور ظلم کے اسرار نہاں اے زنداں

    جان پائے گا بھلا کون اسیروں کے سوا

    درد دل ہے کہ بھٹکتی ہوئی روحوں کا جلال

    قتل ہو کر بھی دھڑکتا ہے جو ویرانوں میں

    میں سلگتا ہی رہا اور وہ انداز جنوں

    چھپ گیا آگ لگا کر مرے ارمانوں میں

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین,

    فہد حسین

    آج پھر درد اٹھا فہد حسین

    مأخذ :
    • کتاب : Shoalon Ka Shajar (Pg. 46)
    • Author : Chander Bhan Khayal
    • مطبع : Sutoor Parkashan (1969)
    • اشاعت : 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے