آخری تماشائی

شمس الرحمن فاروقی

آخری تماشائی

شمس الرحمن فاروقی

MORE BY شمس الرحمن فاروقی

    اٹھو کہ وقت ختم ہو گیا

    تماش بینوں میں تم آخری ہی رہ گئے ہو

    اب چلو

    یہاں سے آسمان تک تمام شہر چادریں لپیٹ لی گئیں

    زمین سنگ ریزہ سخت

    دانت سی سفید ملگجی دکھائی دے رہی ہے ہر طرف

    تمہیں جہاں گمان سبزہ تھا

    وہ جھلک رہی ہے کہنہ کاغذوں کی برف

    وہ جو چلے گئے انہیں تو اختتامیے کے سب سیاہ منظروں کا علم تھا

    وہ پہلے آئے تھے اسی لیے وہ عقل مند تھے تمہیں

    تو صبح کا پتہ نہ شام کی خبر تمہیں تو

    اتنا بھی پتہ نہیں کہ کھیل ختم ہو تو اس کو شام

    کہتے ہیں اے ننھے شائقان رقص

    اب گھروں کو جاؤ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Akhiri tamashai - Shamsur rahman Farooqui نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY