عالم برزخ

فہمیدہ ریاض

عالم برزخ

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاں

    اک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاں

    وہی تپتا ہوا گردوں وہی انگارا زمیں

    جا بہ جا تشنہ و آشفتہ وہی خاک نشیں

    شب گراں زیست گراں تر ہی تو کر جاتی تھی

    سود خوروں کی طرح در پہ سحر آتی تھی

    زیست کرنے کی مشقت ہی ہمیں کیا کم تھی

    مستزاد اس پہ پروہت کا جنون تازہ

    سب کو مل جائے گناہوں کا یہیں خمیازہ

    ناروا دار فضاؤں کی جھلستی ہوئی لو!

    محتسب کتنے نکل آئے گھروں سے ہر سو

    تاڑتے ہیں کسی چہرہ پہ طراوت تو نہیں

    کوئی لب نم تو نہیں بشرے پہ فرحت تو نہیں

    کوچہ کوچہ میں نکالے ہوئے خونی دیدے

    گرز اٹھائے ہوئے دھمکاتے پھرا کرتے ہیں

    نوع آدم سے بہر طور ریا کے طالب

    روح بے زار ہے کیوں چھوڑ نہ جائے قالب

    زندگی اپنی اسی طور جو گزری غالبؔ

    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    عالم برزخ فہمیدہ ریاض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY