آنکھیں ترس گئی ہیں

ابرار احمد

آنکھیں ترس گئی ہیں

ابرار احمد

MORE BYابرار احمد

    اس گھر میں یا اس گھر میں

    تو کہیں نہیں ہے

    دروازے بجتے ہیں

    خالی کمرے

    تیری باتوں کی مہکار سے بھر جاتے ہیں

    دیواروں میں

    تیری سانسیں سوئی ہیں

    میں جاگ رہا ہوں

    کانوں میں

    کوئی گونج سی چکراتی پھرتی ہے

    بھولے بسرے گیتوں کی

    چاندنی رات میں کھلتے ہوئے

    پھولوں کی دمک ہے، یہیں کہیں

    تیرے خواب

    مری بے سایہ زندگی پر

    بادل کی صورت جھکے ہوئے ہیں

    یاد کے دشت میں

    آنکھیں کانٹے چنتی ہیں

    میرے ہاتھ

    ترے ہاتھوں کی ٹھنڈک میں

    ڈوبے رہتے ہیں

    آخر۔۔۔ تیری مٹی سے مل جانے تک

    کتنے پل

    کتنی صدیاں ہیں

    اس سرحد سے

    اس سرحد تک

    کتنی مسافت اور پڑی ہے

    ان رستوں میں

    کتنی بارشیں برس گئی ہیں

    آنکھیں مری

    تیری راتوں کو ترس گئی ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے