آثار قدیمہ سے نکلا ایک نوشتہ

حسن عباس رضا

آثار قدیمہ سے نکلا ایک نوشتہ

حسن عباس رضا

MORE BYحسن عباس رضا

    ہماری آنکھ میں نوکیلے کانٹے

    اور بدن میں

    زہر کے نیزے ترازو ہو چکے تھے

    جب سیہ شب نے

    گلابی صبح کے غرقاب ہونے کی خبر پر

    ہم سے فوری تبصرہ مانگا

    ہمارے ہونٹ

    اتنے خشک،

    اور اتنے دریدہ تھے

    کہ ہم اک لفظ بھی کہتے

    تو ریزہ ریزہ ہو جاتے

    قلم ہاتھوں میں کیا لیتے

    کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی قلم تھے

    (کیا سخن کہتے

    کہاں لکھتے، کسے لکھتے)

    سو اہل جاہ نے

    جو تبصرہ (جو قتل نامہ) سامنے رکھا

    ہم اہل صبر نے

    خوں رنگ ہونٹوں کی دریدہ مہر

    اس پر ثبت کر دی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY