آزمائش شرط تھی

ستیہ پال آنند

آزمائش شرط تھی

ستیہ پال آنند

MORE BY ستیہ پال آنند

    زندہ رہنا سیکھ کر بھی میں نے شاید

    زندگی کو درد تہہ تک

    پی کے جینے کی کبھی کوشش نہیں کی!

    پیاس تھی پانی نہیں تھا

    صبر سے شکر و رضا کے بند حجروں میں بندھا

    بیٹھا رہا اور حلق میں جب پیاس کے کانٹے چبھے تو

    سہہ گیا میں!

    میرے گھر والوں نے، میرے بیوی بچوں نے بھی

    جلتے ہونٹ سی کر پیاس کے کانٹوں کو سہنے

    صبر سے شکر و رضا کے بند حجروں میں

    تڑپنے کا سبق سیکھا مجھی سے

    یہ سراسر بزدلی تھی، ان سے دھوکا تھا

    کہ میں نے خود کو پہچانا نہیں تھا!

    میں بھی موسیٰ کی طرح

    غصے میں اپنی آستینوں کو چڑھاتا

    اور عصا کی ایک کاری چوٹ سے

    چٹان کے ٹکڑے اگر کرتا

    تو شاید بازیابی کے عمل میں مجھ پہ کھلتا

    رہبری کا فن نبوت کا کرشمہ

    پیاس سے ہلکان لوگوں کے لیے پانی کا چشمہ

    آزمائش شرط تھی

    میں نے کبھی پوری نہیں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY