ابا کا چالیسواں

نشتر امروہوی

ابا کا چالیسواں

نشتر امروہوی

MORE BYنشتر امروہوی

    بوڑھے غریب باپ کے مرنے پہ دفعتاً

    بیٹے نے سوچا کیسے کروں دفن اور کفن

    اپنے یہاں تو موت میں خرچے کا ہے چلن

    غم سے نڈھال بیٹے کے ماتھے پہ تھی شکن

    جو کچھ تھا پاس دفن و کفن میں اٹھا دیا

    خرچے نے پھر تو موت کا صدمہ بھلا دیا

    کرنا پڑا جو دفن کا تا صبح انتظار

    میت کے پاس چلتی رہی چائے بار بار

    اور موت میں جو آئے تھے بیرونی رشتہ دار

    چائے سے ان کی توڑا گیا نیند کا خمار

    اور اس کے بعد چلتا جو پھر پاندان ہے

    لگتا ہے سوگوار نہیں میزبان ہے

    پرسے کو صبح شام پھر آتے ہیں رشتہ دار

    کھانا نہیں تو چائے کم از کم ہو ایک بار

    چائے کے ساتھ وائے میں خرچے ہیں بے شمار

    مردے کو چھوڑ خرچے کو روتا ہے سوگوار

    تیجے کے بعد دسواں ہے پھر بیسواں بھی ہے

    پھر چند روز بعد ہی چالیسواں بھی ہے

    ہر روز فاتحہ کے لئے گوشت چاہئے

    سالن بھی صرف ایک نہیں دو پکائیے

    نذر و نیاز کے لئے حلوہ بنائیے

    پھر روز آنے والوں کو چائے پلائیے

    بیٹا بچارہ دب گیا قرضے کے بار سے

    برسوں تک اب چھڑائے گا پیچھا ادھار کے

    پھر اس کے بعد باتیں بناتی ہیں عورتیں

    کیا کیا کمی رہی یہ بتاتی ہیں عورتیں

    چالیسواں کچھ ایسے کراتی ہیں عورتیں

    فرمائشوں کے ڈھیر لگاتی ہیں عورتیں

    اس طرح موت کو بھی تماشہ بنا دیا

    وہ اعتراض اٹھائے کلیجہ ہلا دیا

    بیٹے نے نام کر دیا روشن جہان میں

    ایسی کسی نے موت نہ کی خاندان میں

    چالیسواں کچھ ایسا کیا آن بان میں

    زیور بہو کا بک گیا مصنوعی شان میں

    وہ موت کی کہ کنبے میں ڈنکا بجا دیا

    چالیسویں پہ شہر کو کھانا کھلا دیا

    مآخذ :
    • کتاب : Post Martum (Pg. 57)
    • Author : Nashtar Amrohvi
    • مطبع : M.R. Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY