ابھی کچھ دن لگیں گے

اصغر ندیم سید

ابھی کچھ دن لگیں گے

اصغر ندیم سید

MORE BYاصغر ندیم سید

    ابھی کچھ دن لگیں گے خواب کو تعبیر ہونے میں

    کسی کے دل میں اپنے نام کی شمع جلانے میں

    کسی کے شہر کو دریافت کرنے میں

    کسی انمول ساعت میں کسی ناراض ساتھی کو ذرا سا پاس لانے میں

    ابھی کچھ دن لگیں گے

    درد کا پرچم بنانے میں

    پرانے زخم پہ مرہم لگانے میں

    محبت کی کویتا کو ہوا کے رخ پہ لانے میں

    پرانی نفرتوں کو بھول جانے میں

    ابھی کچھ دن لگیں گے

    رات کی دیوار میں اک در بنانے میں

    مقدر میں لگی اک گانٹھ کو آزاد کرنے میں

    نئے کچھ مرحلے تسخیر کرنے میں

    مرے غالبؔ، مرے ٹیگورؔ کو اپنا بنانے میں

    ابھی کچھ دن لگیں گے

    دشت میں پھولوں کا گلدستہ سجانے میں

    ابھی کچھ دن لگیں گے

    مگر یہ دن زیادہ تو نہیں ہوں گے

    بس اک موسم کی دوری پر

    کہیں ہم تم ملیں گے

    بس اک ساعت کی نزدیکی میں

    باہم مشورے ہوں گے

    بس اک گزرے ہوئے کل سے پرے

    ہم پاس بیٹھیں گے

    بہت سا درس سہہ لیں گے

    بہت سی بات کر لیں گے!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY