Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ادھورا خواب

بسمل عارفی

ادھورا خواب

بسمل عارفی

MORE BYبسمل عارفی

    شہر کیسے یہ اجنبی ٹھہرا

    کیسے پہچان کھو گئی میری

    اب کوئی جانتا نہیں مجھ کو

    سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں

    سہمے سہمے سے ہیں در و دیوار

    کھڑکیاں دیکھ کر تعجب سے

    گفتگو کر رہی ہیں آپس میں

    کون آیا ہے ملنے برسوں بعد

    کہہ رہی ہے یہ مجھ سے کیا انگنائی

    پوچھتی ہے کہاں سے آئے ہو

    کچھ بتاؤ تو کس سے ملنا ہے

    سوچتا ہوں کہوں میں کیا اس سے

    میری باتوں کو کب یہ مانے گی

    میرے قصوں کو جھوٹ جانے گی

    جس سے ملنا تھا وہ نظر ہی نہیں

    ہائے اب کوئی منتظر ہی نہیں

    ذہن یہ سوچنے پہ ہے مجبور

    واقعی دیر ہو گئی ہے کیا

    راستے میں کہیں رکا ہی نہیں

    دیر کیسے ہوئی پھر آنے میں

    مأخذ :
    • کتاب : مرے تصور میں رنگ بھردو (Pg. 111)
    • Author : بسمل عارفی
    • مطبع : نور پبلی کیشن، دریا گنج،نئی دہلی (2019)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے