اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

احمد ندیم قاسمی

اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    جہاں سے پھول ٹوٹا تھا وہیں سے

    کلی سی اک نمایاں ہو رہی ہے

    جہاں بجلی گری تھی اب وہی شاخ

    نئے پتے پہن کر تن گئی ہے

    خزاں سے رک سکا کب موسم گل

    یہی اصل اصول زندگی ہے

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    کھنڈر سے کل جہاں بکھرے پڑے تھے

    وہیں سے آج ایواں اٹھ رہے ہیں

    جہاں کل زندگی مبہوت سی تھی

    وہیں پر آج نغمے گونجتے ہیں

    یہ سناٹے سے لی ہے سمت ہجرت

    یہی اصل اصول زندگی ہے

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    رہے یخ بستگی کا خوف جب تک

    شعاعیں برف پر لرزاں رہیں گی

    نہ دھیرے جم نہیں پائیں گے جب تک

    چراغوں کی لویں رقصاں رہیں گی

    بشر کی اپنی ہی تقدیر سے جنگ

    یہی اصل اصول زندگی ہے

    اگر ہے جذبۂ تعمیر زندہ

    تو پھر کس چیز کی ہم میں کمی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 70)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY