عہد وفا

اختر الایمان

عہد وفا

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    یہی شاخ تم جس کے نیچے کسی کے لیے چشم نم ہو یہاں اب سے کچھ سال پہلے

    مجھے ایک چھوٹی سی بچی ملی تھی جسے میں نے آغوش میں لے کے پوچھا تھا بیٹی

    یہاں کیوں کھڑی رو رہی ہو مجھے اپنے بوسیدہ آنچل میں پھولوں کے گہنے دکھا کر

    وہ کہنے لگی میرا ساتھی ادھر اس نے انگلی اٹھا کر بتایا ادھر اس طرف ہی

    جدھر اونچے محلوں کے گنبد ملوں کی سیہ چمنیاں آسماں کی طرف سر اٹھائے کھڑی ہیں

    یہ کہہ کر گیا ہے کہ میں سونے چاندی کے گہنے ترے واسطے لینے جاتا ہوں رامیؔ

    مآخذ:

    • کتاب : azadi ke bad urdu nazm (Pg. 247)
    • Author : shamim hanfi and mazhar mahdi
    • مطبع : qaumi council bara-e-farogh urdu (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY