اجنبی

کیفی اعظمی

اجنبی

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز

    بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی

    تو جہاں تھی اسی جنت میں نکھرتا ترا روپ

    اس جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی

    یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم

    اور دل جس پہ خد و خال کی نرمی بھی نثار

    خار ہی خار شرارے ہی شرارے ہیں یہاں

    اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار

    تشنگی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح

    جانے کس جام پہ رک جائے نگاہ معصوم

    ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں میں مے خانہ بھی

    پیاس ان آنکھوں کی بجھے یا نہ بجھے کیا معلوم

    ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل

    کوئی گھر میں کوئی محفل میں سجائے گا تجھے

    تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے

    کون اشکوں کی گھنی چھاؤں میں گائے گا تجھے

    تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے بس پیار نہیں

    اپنے آنچل پہ مجھے اشک بہا لینے دے

    تو جہاں جاتی ہے جا، روکنے والا میں کون

    اپنے رستے میں مگر شمع جلا لینے دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY