اجنبی خط و خال

صوفی تبسم

اجنبی خط و خال

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    یہ کس نے مری نظر کو لوٹا

    ہر چیز کا حسن چھن گیا ہے

    ہر شے کے ہیں اجنبی خط و خال

    بڑھتے چلے جا رہے ہیں ہر سمت

    موہوم سی بے رخی کے سائے

    کچھ اس طرح ہو رہا ہے محسوس

    جیسے کسی شے کا نقش مانوس

    آ آ کے قریب لوٹ جائے

    بیگانہ ہوں اپنے آپ سے میں

    اور تو بھی ہے دور دور مجھ سے

    کچھ ایسے بکھر بکھر گئے

    جلووں کے سمیٹنے کو گویا

    آنکھوں میں سکت نہیں رہی ہے

    کیا تو نے کوئی نقاب الٹا

    یا آج کوئی طلسم ٹوٹا!

    یہ کس نے مری نظر کو لوٹا

    ہر شے کے ہیں اجنبی خط و خال

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY