اکیلے کمرے میں

کفیل آزر امروہوی

اکیلے کمرے میں

کفیل آزر امروہوی

MORE BY کفیل آزر امروہوی

    ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہو

    کیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہے

    تمہارے شعر سنا کر تمہارے سر کی قسم

    سہیلیوں نے مجھے بار بار چھیڑا ہے

    کشش نہیں ہے تمہارے بنا بہاروں میں

    یہ چھت یہ چاند ستارے اداس لگتے ہیں

    چمن کا رنگ نسیم سحر گلاب کے پھول

    نہیں ہو تم تو یہ سارے اداس لگتے ہیں

    خبر سنی ہے کبھی جب تمہارے آنے کی

    میں آئنے میں دلہن بن کے مسکرائی ہوں

    گئی ہوں دامن دل کو خوشی سے بھرنے مگر

    جہان بھر کی اداسی سمیٹ لائی ہوں

    کہیں پہ گائے گئے ہیں جو گیت بابل کے

    تو اجنبی سے خیالوں میں کھو گئی ہوں میں

    تمہاری یاد کے سینے پہ بارہا آزرؔ

    تصورات کا سر رکھ کے سو گئی ہوں میں

    تمہیں یقین نہ ہوگا اکیلے کمرے میں

    میں اپنی جان سے پیارے خطوط پڑھتی ہوں

    تمام رات تمہیں یاد کرتی رہتی ہوں

    تمام رات تمہارے خطوط پڑھتی ہوں

    تم آ بھی جاؤ کہ گزرے ہوئے دنوں کی طرح

    سلگ نہ جائیں کہیں حسرتوں کی تصویریں

    اداس پا کے نہ چھیڑیں سہیلیاں مجھ کو

    بدل بھی دو مری تنہائیوں کی تقدیریں

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 112)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY