اخروٹ کا پیڑ اور ایک ناداں

عادل اسیر دہلوی

اخروٹ کا پیڑ اور ایک ناداں

عادل اسیر دہلوی

MORE BYعادل اسیر دہلوی

    ناداں کوئی اک روز جو جنگل میں گیا

    اخروٹ کے باغات کا منظر دیکھا

    ہے کتنا بڑا پیڑ تو پھل چھوٹا سا

    یہ سوچ کے وہ اور بھی حیران ہوا

    اس اتنے بڑے پیڑ پہ ننھا سا پھل

    تربوز یہاں ہوتا تو کیا اچھا تھا

    تربوز کو دیکھو تو ذرا سی ہے بیل

    قدرت نے دکھائے ہیں تماشے کیا کیا

    تربوز کہاں اور کہاں یہ اخروٹ

    کیا بھید ہے میری نہ سمجھ میں آیا

    اس سوچ میں تھا کہ اک ہوا کا جھکڑ

    آندھی سا بگولا سا بپھر کر اٹھا

    جنگل کے درختوں کو ہلا کر اس نے

    اخروٹ کو نادان کے سر پر پھینکا

    سر پر پڑا اخروٹ تو چیخا نادان

    تربوز جو ہوتا تو میں مر ہی جاتا

    حکمت سے کوئی کام نہیں ہے خالی

    جس کو بھی جہاں تو نے کیا ہے پیدا

    اس کی جگہ اس نے نہیں بہتر کوئی

    اب راز یہ میری بھی سمجھ میں آیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY