علامت کے پس منظر میں

محمد یوسف پاپا

علامت کے پس منظر میں

محمد یوسف پاپا

MORE BYمحمد یوسف پاپا

    بے قرار

    پھنس گئی ماضی کے تہہ خانے میں

    مستقبل کی ٹانگ

    نبض دوراں

    نیم کے سائے تلے بیٹھی رہی

    اور پھر

    قلب مضطر میں ککرمتے اگے

    چشم فطرت کا

    چرا کر لے گیا کاجل کوئی

    کنکھجورے سانس سے چپکے ہوئے

    گھورتے ہیں مرمریں ادراک کو

    کھیت میں لیٹی ہے دیوانے کی روح

    کود جاؤ آنسوؤں کی جھیل میں

    آج دھرپد گا رہی ہے چاندنی

    اک ستارا دوسرے پر گر پڑا

    فلسفی کے گھر میں تل چٹے بھٹکتے رہ گئے

    گھس گیا بھس آنکھ میں آکاش کی

    نیند آنتوں کو

    چباتی جائے ہے

    پھیپھڑوں میں فضلۂ احساس ہے

    محو خرام

    روشنی کو کوئلے کی کان سے فرصت کہاں

    دوستو آؤ

    لنگوٹی باندھ لیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY