الاؤ

MORE BYسحر انصاری

    ہم اجنبی تھے مسافر تھے خانہ ویراں تھے

    اور اس الاؤ کے رقصاں حنائی باتوں نے

    بلا لیا ہمیں اپنے حسیں اشاروں سے

    تو اس کی روشنیٔ احمریں کی تابش میں

    خود اپنے آپ کو اک دوسرے سے پہچانا

    کہ ہم وہ خانہ بدوشان زیست ہیں جن کو

    ازل سے اپنے ہی جیسے مسافروں کی تلاش

    کئے ہوئے ہے انہی دشت و در میں سر گرداں

    ہماری اپنی صدا اجنبی تھی اپنے لیے

    دلوں نے پہلے پہل زیر لب کہا ہم سے

    کہ اہل ظرف و غریبان شہر احساسات

    ترس رہے ہیں سخن ہائے گفتنی کے لیے

    اور اس الاؤ کے شعلوں نے ہم سے باتیں کیں

    ہماری گنگ زبانوں کو پھر زبانیں دیں

    اور اپنی اپنی سنائیں کہانیاں ہم نے

    کہانیاں جو حقیقت میں ایک جیسی تھیں

    پھر اس الاؤ نے ہم سے کہا کہ دیوانو

    وہ شے جو شعلہ فشاں ہے تمہارے سینوں میں

    اسی کو زیست کا روشن الاؤ کہتے ہیں

    یہی الاؤ ہے جس نے مہیب راتوں میں

    شعور شعلہ طرازی عطا کیا تم کو

    اسی الاؤ سے ابھرا ہے آرزو کا فسوں

    اسی الاؤ سے سیکھا ہے تم نے اسم جنوں

    اور اس کے بعد مجھے یاد ہے کہ ہم سب نے

    یہ ایک عہد کیا تھا اسی الاؤ کے گرد

    کہ اس کی آگ میں خاشاک غم جلائیں گے

    اور اس الاؤ کو اپنا خدا بنائیں گے

    مآخذ:

    • کتاب : namuud (Pg. 154)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY