البم

MORE BYوحید احمد

    ہری مسجد کی ہلکی دھوپ میں

    تازہ وضو سے گیلے پاؤں

    اور ٹپکتی آستینوں کی چمک میں لوگ تھے

    جو صف بہ صف

    اپنا جنازہ پڑھ رہے تھے

    صدر دروازے سے

    اک بارود میں ڈوبا ہوا

    جنت کا سٹہ باز اور حوروں کا سوداگر

    اچانک سہو کا سجدہ ادا کرنے کو آیا!

    اور ہری مسجد نے اپنا رنگ بدلا

    قرمزی دہلیز پر جتنے بھی جوتے تھے

    وہ تازہ خون پر پہلے تو تیرے

    اور پھر

    جمتے لہو پر جم گئے

    میں بچپن میں

    کئی ملکوں کے سکے اور ٹکٹیں جمع کرتا تھا

    بیاض ذہن کے تاریک پنوں پر

    میں اب جسموں کے ٹکڑے جمع کرتا ہوں

    مری البم کے صفحوں کی تہوں سے خوں نکلتا ہے

    مری آنکھوں سے رستا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    البم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY