الوداع

باقر مہدی

الوداع

باقر مہدی

MORE BY باقر مہدی

    الوداع

    کیسے ماہ و سال گزرے

    اب نہ کچھ بھی یاد ہے

    صرف ہیں دھندلے نقوش

    یا بصارت کی کمی ہے

    کچھ نظر آتا نہیں

    بس کتابوں اور فلموں میں رہی

    اک بصیرت کی تلاش

    کچھ نہ کچھ روٹی کی بھی تھی جستجو

    جانے کس منزل کی تھی وہ آرزو

    بے سبب لوگوں سے یارانہ رہا

    اور پھر تنہا رہا برسوں تلک

    سب تھے قیدی اپنے اپنے جال کے

    تمناؤں کی دلدل میں پڑے

    کس میں ہمت تھی کہ بدلے زندگانی کے پرانے خول کو

    ہم سے سرکش کو دیا کرتے تھے نام

    اور ہنس کر خوش ہوا کرتے سارے اجنبی

    کون سمجھائے کہ ہم محکوم ہیں مظلوم ہیں

    بے بسی کیسے مقدر بن گئی

    بولے گا کون

    خوف ایسا ہے کہ کوئی شخص کچھ کہتا نہیں

    جانے کس طوفان کے سب منتظر ہیں

    بت بنے

    کیسے چلاؤں کہ اپنا ہم نوا کوئی نہیں

    الوداع خود اپنے سائے کو مگر

    کہنا پڑا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    مآخذ:

    • کتاب : Dastavez (Pg. 297)
    • Author : Aziz Nabeel
    • مطبع : Edarah Dastavez (2010)
    • اشاعت : 2010

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY