اندھا کباڑی

ن م راشد

اندھا کباڑی

ن م راشد

MORE BYن م راشد

    شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ہوئے

    پا شکستہ سر بریدہ خواب

    جن سے شہر والے بے خبر!

    گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب

    کہ ان کو جمع کر لوں

    دل کی بھٹی میں تپاؤں

    جس سے چھٹ جائے پرانا میل

    ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں

    چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن

    جیسے نو آراستہ دولہوں کے دل کی حسرتیں

    پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!

    ''خواب لے لو خواب۔۔۔۔''

    صبح ہوتے چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا

    خواب اصلی ہیں کہ نقلی؟''

    یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر

    خواب داں کوئی نہ ہو!

    خواب گر میں بھی نہیں

    صورت گر ثانی ہوں بس

    ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!

    شام ہو جاتی ہے

    میں پھر سے لگاتا ہوں صدا

    مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب،،

    ''مفت'' سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ

    اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ

    ''دیکھنا یہ ''مفت'' کہتا ہے

    کوئی دھوکا نہ ہو؟

    ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو؟

    گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں

    یا پگھل جائیں یہ خواب؟

    بھک سے اڑ جائیں کہیں

    یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب

    جی نہیں کس کام کے؟

    ایسے کباڑی کے یہ خواب

    ایسے نا بینا کباڑی کے یہ خواب!''

    رات ہو جاتی ہے

    خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر

    منہ بسورے لوٹتا ہوں

    رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں

    ''یہ لے لو خواب۔۔۔۔''

    ''اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی

    خواب لے لو، خواب

    میرے خواب

    خواب میرے خواب

    خواب

    ان کے دام بھی''

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    ن م راشد

    ن م راشد

    RECITATIONS

    عاطف بلوچ

    عاطف بلوچ

    عاطف بلوچ

    اندھا کباڑی عاطف بلوچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY