اپنی یاد میں

شہریار

اپنی یاد میں

شہریار

MORE BYشہریار

    میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوں

    دور تتلیوں کے ریشمی پروں کے نیلے پیلے رنگ

    اڑ رہے ہیں ہر طرف

    فرشتے آسمان سے اتر رہے ہیں صف بہ صف

    میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوں

    آنسوؤں کی اوس میں نہا کے بھولے بسرے خواب آ گئے

    خون کا دباؤ اور کم ہوا

    نحیف جسم پر کسی کے ناخنوں کے آڑے ترچھے نقش

    جگمگا اٹھے

    لبوں پہ لکنتوں کی برف جم گئی

    طویل ہچکیوں کا ایک سلسلہ

    فضا میں ہے

    لہو کی بو ہوا میں ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Nai Nazm ka safar (Pg. 202)
    • Author : Khalilur Rahman Azmi
    • مطبع : NCPUL, New Delhi (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY