عقیدے

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    اپنے ماضی کے گھنے جنگل سے

    کون نکلے گا! کہاں نکلے گا

    بے کراں رات ستارے نابود

    چاند ابھرا ہے؟ کہاں ابھرا ہے؟

    اک فسانہ ہے تجلی کی نمود

    کتنے گنجان ہیں اشجار بلند

    کتنا موہوم ہے آدم کا وجود

    مضمحل چال قدم بوجھل سے

    اپنے ماضی کے گھنے جنگل سے

    مجھ کو سوجھی ہے نئی راہ فرار

    آہن و سنگ و شرر برسائیں

    آؤ اشجار کی بنیادوں پر

    تیشہ و تیغ و تبر برسائیں

    اک تسلسل سے ہم اپنی چوٹیں

    بے خطر بار دگر برسائیں

    ذہن پر چھائے ہیں کیوں بادل سے

    اپنے ماضی کے گھنے جنگل سے

    نوع انساں کو نکلنا ہوگا

    ان اندھیروں کو نگلنا ہوگا

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 225)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY