اقلیما

فہمیدہ ریاض

اقلیما

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    اقلیما

    جو ہابیل کی قابیل کی ماں جائی ہے

    ماں جائی

    مگر مختلف

    مختلف بیچ میں رانوں کے

    اور پستانوں کے ابھاروں میں

    اور اپنے پیٹ کے اندر

    اپنی کوکھ میں

    ان سب کی قسمت کیوں ہے

    اک فربہ بھیڑ کے بچے کی قربانی

    وہ اپنے بدن کی قیدی

    تپتی ہوئی دھوپ میں جلتے

    ٹیلے پر کھڑی ہوئی ہے

    پتھر پر نقش بنی ہے

    اس نقش کو غور سے دیکھو

    لمبی رانوں سے اوپر

    ابھرے پستانوں سے اوپر

    پیچیدہ کوکھ سے اوپر

    اقلیما کا سر بھی ہے

    اللہ کبھی اقلیما سے بھی کلام کرے

    اور کچھ پوچھے

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    اقلیما فہمیدہ ریاض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY