عورت

اسد رضوی

عورت

اسد رضوی

MORE BYاسد رضوی

    لذت دید سے دیکھو گے مچل جاؤ گے

    آگ ہوں ہاتھ لگاؤ گے تو جل جاؤ گے

    موم پتھر کو بنا دوں وہ اثر رکھتی ہوں

    پاؤں شعلوں پہ تو تلوار پہ سر رکھتی ہوں

    یہ بہاریں یہ امنگیں یہ مسرت یہ شباب

    یہ شفق رنگ مناظر یہ شگوفے یہ گلاب

    یہ نوازش یہ عنایات کہاں پاؤ گے

    رب سے بخشی ہوئی سوغات کہاں پاؤ گے

    میری زلفوں ہی کی برسات سے سیراب ہو تم

    پھول کی طرح مرے سائے میں شاداب ہو تم

    یہ بھی سچ ہے کہ بیاباں میں گلستاں ہوں میں

    مضطرب روح کی تسکین کا ساماں ہوں میں

    مختصر یہ کہ مجھے پیار سے پا سکتے ہو

    تم مرے دل کے گلستان میں آ سکتے ہو

    گر مری ذات کا عرفان تمہیں مل جائے

    یہ زمیں کیا ہے آسمان تمہیں مل جائے

    حیثیت کیا ہے مری اور حقیقت کیا ہے

    میں بتاتی ہوں تمہیں میری فضیلت کیا ہے

    ایک آدم کے علاوہ کوئی انسان نہ تھا

    میں نہ ہوتی تو تمہارا کوئی امکان نہ تھا

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY