ازلی مسرتوں کی ازلی منزل

احمد ندیم قاسمی

ازلی مسرتوں کی ازلی منزل

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    مٹیالے مٹیالے بادل گھوم رہے ہیں میدانوں کے پھیلاؤ پر

    دریا کی دیوانی موجیں ہمک ہمک کر ہنس دیتی ہیں اک ناؤ پر

    سامنے اودے سے پربت کی ابر آلودہ چوٹی پر ہے ایک شوالا

    جس کے عکس کی تابانی سے پھیل رہا ہے چاروں جانب ایک اجالا

    جھلمل کرتی ایک مشعل سے محرابوں کے گہرے سائے رقصیدہ ہیں

    ہر سو پریاں ناچ رہی ہیں جن کے عارض رخشاں نظریں دزدیدہ ہیں

    عنبر اور لوبان کی لہریں دوشیزہ کی زلفوں پہ ایسے بل کھاتی ہیں

    چاندی کے ناقوس کی تانیں دھندلے دھندلے نظاروں میں گھل جاتی ہیں

    ہاتھ بڑھائے سر نہوڑائے پتلے سایوں کا اک جھرمٹ گھوم رہا ہے

    پوجا کی لذت میں کھو کر مندر کے تابندہ زینے چوم رہا ہے

    ایک بہت پتلی پگڈنڈی ساحل دریا سے مندر تک کانپ رہی ہے

    ناؤ چلانے والی لڑکی چپو کو ماتھے سے لگائے ہانپ رہی ہے

    دیوانی کو کون بتائے اس مندر کی دھن میں سب تھک ہار گئے ہیں

    سائے بن کے گھوم رہے ہیں جو بے باک چلانے والے پار گئے ہیں

    وہ جب ناؤ سے اترے گی مٹیالے مٹیالے بادل گھر آئیں گے

    میدانوں پر کہساروں پر دریا پر ناؤ پر سب پر چھا جائیں گے

    اول تو پگڈنڈی کھو کر گر جائے گی غاروں غاروں میں بیچاری

    بچ نکلی تو ہو جائے گی اس کے نازک دل پر اک ہیبت سی طاری

    ہوش میں آئی تو رگ رگ پر ایک نشہ سا بے ہوشی کا چھایا ہوگا

    جسم کے بدلے اس مندر میں دھندلا اک لچکیلا سایا ہوگا

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 307)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY