بابا گرو نانک دیو

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

بابا گرو نانک دیو

کنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

MORE BYکنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

    ایک جسم ناتواں اتنی دباؤں کا ہجوم

    اک چراغ صبح اور اتنی ہواؤں کا ہجوم

    منزلیں گم اور اتنے رہنماؤں کا ہجوم

    اعتقاد خام اور اتنے خداؤں کا ہجوم

    کشمکش میں اپنے ہی معبد سے کتراتا ہوا

    آدمی پھرتا تھا در در ٹھوکریں کھاتا ہوا

    حق کو ہوتی تھی ہر اک میداں میں باطل سے شکست

    سرنگوں سر در گریباں سربسر تھے زیردست

    فن تھا اک مطلب براری لوگ تھے مطلب پرست

    اسقدر بگڑا ہوا تھا زندگی کا بندوبست

    حامی جور و ستم ہر طرح مالا مال تھا

    جس کی لاٹھی تھی اسی کی بھینس تھی یہ حال تھا

    کیا خدا کا خوف کیسا جذبۂ حب وطن

    برسر پیکار تھے آپس میں شیخ و برہمن

    باغباں جو تھے وہ خود تھے محو تخریب چمن

    الغرض بگڑی ہوئی تھی انجمن کی انجمن

    مذہب انسانیت کا پاسباں کوئی نہ تھا

    کارواں لاکھوں تھے میر کارواں کوئی نہ تھا

    روح انساں نے خدا کے سامنے فریاد کی

    جو زمیں پر ہو رہا تھا سب بیاں روداد کی

    اور کہا حد ہو چکی ہے کفر کی الحاد کی

    ایک دنیا منتظر ہے آپ کے ارشاد کی

    تب یہ فرمایا خدا نے سب کو سمجھاؤں گا میں

    آدمی کا روپ دھارن کر کے خود آؤں گا میں

    اس طرح آخر ہوا دنیا میں نانک کا ظہور

    فرش تلونڈی پہ اترا عرش سے رب غفور

    اٹھ گیا ظلمات کا ڈیرا بڑھا ہر سمت نور

    منبع انوار سے پھیلیں شعاعیں دور دور

    مہر تاباں نے دو عالم میں اجالا کر دیا

    آدمی نے آدمی کا بول بالا کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY