بچوں کی قوالی

شوکت پردیسی

بچوں کی قوالی

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    INTERESTING FACT

    یہ نظم پہلی بار ماہ اگست 1959ئ میں ’’کھلونا‘‘ میں شائع ہوئی۔ دوسری بار مارہ نومبر، 1981میں ’’پیام تعلیم‘‘ میں شائع ہوئی۔

    حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیں

    جو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیں

    تھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیں

    ابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیں

    کچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیں

    تجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیں

    اسکول ہی ایسا ہے کہ جہاں کچھ چین نہیں آرام نہیں

    اس وقت اگرچہ سر میں کسی کے درد برائے نام نہیں

    ہر وقت مگر پڑھتے رہنا کم عمروں کا تو کام نہیں

    سب اپنی اپنی کرسی پر سدھ بدھ بسرائے بیٹھے ہیں

    اک بار کہیں سے مل جاتا ہم سب کو چراغ چین اگر

    بس سال میں اک دن پڑھ لیتے درجے کی کتابیں فر فر فر

    پھر خواب ہی دلچسپی رہتی پھر خوب مزہ آتا دن بھر

    اسکول میں جانا کیوں ہوتا ہر روز یہ رہتا کیوں چکر

    امید نہیں لیکن پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیں

    لیکن یہ زمانہ علم کا ہے یہ وقت ہے آگے بڑھنے کا

    مل جل کے کریں گے گر محنت ہو جائے گا ہر سپنا پورا

    ہمت سے ہوئی ہیں تعمیریں جرأت سے ہوا ہے کام نیا

    جب عزم و عمل اچھا ہوگا اچھا ہی نتیجہ بھی ہوگا

    ہم لوگ یہاں حلوہ کھا کر اک شمع جلائے بیٹھے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY