بچپن کی آنکھیں

صادق

بچپن کی آنکھیں

صادق

MORE BYصادق

    بچپن کی آنکھیں

    سڑک کے کنارے کھڑی

    روتی ہیں

    سراسیمگی کے عالم میں

    اپنے جوتے اور چپلیں چھوڑ کر

    بھاگنے والوں کی دہشت اور حیرانیاں

    ان میں سرایت کر چکی ہیں

    بچپن کی آنکھیں

    حیران ہیں

    کہ گھروں کو آگ لگانے والوں

    اور ان کے اندر پھنسے ہوئے

    خوف زدہ لوگوں کا

    درمیانی رشتہ

    ان کی سمجھ میں نہیں آتا

    انہیں معلوم نہیں

    کہ تانگے سے گھسیٹ کر

    گلی میں لے جائی جانے والی عورتوں کے ساتھ

    کیا سلوک کیا گیا

    چھجے پر کھڑا ہوا بوڑھا

    کس کی بندوق کی گولی کھا کر گرا

    بوٹوں تلے روندے جانے والے جسم

    کن لوگوں کے تھے

    بچپن کی آنکھیں

    سڑک کے کنارے کھڑی روتی ہیں

    کہ انہوں نے جو کچھ دیکھا

    وہ بے معنی ہے

    بچپن کی گواہی

    عدالت میں تسلیم نہیں کی جاتی

    مآخذ :
    • کتاب : kushaad (Pg. 39)
    • Author : saadiq
    • مطبع : meyaar publication (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY