بدن سے پوری آنکھ ہے میری

سارا شگفتہ

بدن سے پوری آنکھ ہے میری

سارا شگفتہ

MORE BY سارا شگفتہ

    بدن سے پوری آنکھ ہے میری

    جاؤ جانماز سے اپنی پسند کی دعا اٹھا لو

    ہر رنگ کی دعا میں مانگ چکی

    باغباں دل کا بیج تیرے پاس بھی نہ ہوگا

    دیکھو دھوئیں میں آگ کیسے لگتی ہے

    میرے پیرہن کی تپش مٹی کیسے جلاتی ہے

    بدن سے پوری آنکھ ہے میری

    نگاہ جو تنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے

    میری بارشوں کے تین رنگ ہیں

    ٹوٹی کمان پہ ایک نشان خطا کا پڑا ہے

    ہم چاہیں تو سورج ہماری روٹی پکائے

    اور ہم سورج کو تندور کریں

    فیصلہ چکا دیا خطا اپنی بھول گئے

    نظر کرنے آئے تھے چٹکی بھر آنکھ

    آنکھ تیری گلیوں میں تو بازار ہیں

    زمین آنکھ چھوڑ کر سمندر میں سو رہی

    جنگل تو صرف تلاش ہے

    گھر تو کائنات کے پچھواڑے ہی رہ گیا

    شکار کمان میں پھنس پھنس کر مرا

    تم کیسے شکاری

    آنکھیں تیوروں سے جل رہی ہیں

    جسم زندگی کی ملازمت میں ہے

    تنہائی کشکول ہے

    ہم نے آنکھوں سے شمشیر کھینچی

    اور رخصت کی تصویر بنائی

    رات گود میں سلائی

    اور چاند کا جوتا بنوایا

    ہم نے راہ میں اپنے پیروں کو جنا

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Badan se puri ankh hai meri عذرا نقوی

    مآخذ:

    • Book: Aankhen(rekhta website) (Pg. 106)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites