برسات آ گئی ہے

محمد اسد اللہ

برسات آ گئی ہے

محمد اسد اللہ

MORE BYمحمد اسد اللہ

    گرمی کے ظلم سے یہ

    دنیا دہک رہی تھی

    پیاسی زمین کب سے

    آکاش تک رہی تھی

    موسم کو کیا ہوا ہے

    پل میں بدل گیا ہے

    لو بن کے چل رہی تھی

    یہ تو وہی ہوا ہے

    دیکھو چلی ہوائیں

    چلائیں سائیں سائیں

    بادل کو ساتھ اپنے

    ہر سمت لے کے جائیں

    تھم تھم چلے ہیں بادل

    ڈم ڈم بجے ہیں بادل

    کھولی ہے آسماں نے

    بادل کی اپنی چھاگل

    پانی برس رہا ہے

    موسم یہ ہنس رہا ہے

    بارش میں بھیگتا ہے

    کیچڑ میں پھنس رہا ہے

    بستے اٹھائے بچے

    اسکول کو چلے ہیں

    کھیتوں کی سمت اپنے

    دہقاں نکل پڑے ہیں

    ہر سمت پانی پانی

    ندیوں میں ہے روانی

    پنچھی چہک رہے ہیں

    خوشیوں کی ہے نشانی

    گرمی کو کھا گئی ہے

    ہر سمت چھا گئی ہے

    دل کو لبھا گئی ہے

    برسات آ گئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY