بسنت
آلی آئی بسنت بہار
رنگ رنگ کے پھول کھلے ہیں
مسکاتے کلیوں سے ملے ہیں
پریم کی مدرا پی پاگل ہو
بھنور کریں گنجار
آلی آئی بسنت بہار
سمے سہانا من کو بھائے
شوبھا بن کی کہی نہ جائے
آج سجی باغوں کی رانی
کر سندر شرنگار
آلی آئی بسنت بہار
شیتل پون چلے اٹھلاتی
مدماتی بے خود سی بناتی
ہر جھونکے سے ہلاتی جائے
من بینا کے تار
آلی آئی بسنت بہار
قدرت نے کیا ساج سجایا
دیکھ آج سجنی ہے آیا
سندرتا اور کوملتا پر
جوبن روپ نکھار
آلی آئی بسنت بہار
کوئل جس دم کوک سنائے
ہوک اٹھے من چین نہ پائے
آگ لگے ارمانوں میں جب
پپیہا کرت پکار
آلی آئی بسنت بہار
رتو کس کا کرنے کو آدر
آئی اوڑھ بسنتی چادر
پریم امنگ جوانی لے کر
دینے کو اپہار
آلی آئی بسنت بہار
آئی بسنت نہیں پی آئے
ان بن کیسے جی کل پائے
سب پھیکا جب پاس نہیں ہیں
پریتم پران آدھار
آلی آئی بسنت بہار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.