بے کراں

زبیر رضوی

بے کراں

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    تمہیں پسند ہے ہر شب تمہارے بستر پر

    لپٹ کے تم سے حسیں نرم چاندنی سوئے

    نگار خانۂ فطرت کی دل کشی سوئے

    مگر پسند کو رنگ جنوں نہ دینا تھا

    گگن سے چاند کو دھرتی پہ کیوں بلاتی ہو

    نظر سے پیار کرو ہاتھ کیوں لگاتی ہو

    مسافران شب غم کی دل دہی کے لئے

    تمام عمر اسے نور بن کے ڈھلنا ہے

    اداس راتوں میں قندیل بن کے جلنا ہے

    یہی بہت ہے کہ ہر شب تمہارے بستر پر

    لپٹ کے تم سے حسیں نرم چاندنی سوئے

    گگن سے چاند نہ مانگو گگن پہ رہنے دو

    نظر سے دور سفینہ بہے تو بہنے دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY