بے ننگ و نام

شاذ تمکنت

بے ننگ و نام

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    رات ڈھلتے ہی اک آواز چلی آتی ہے

    بھول بھی جاؤ کہ میں نے تمہیں چاہا کب تھا

    کس صنوبر کے تلے میں نے قسم کھائی تھی

    کوئی طوفاں کسی پونم میں اٹھایا کب تھا

    میری راتوں کو کسی درد سے نسبت کیا تھی

    میری صبحوں کو دعاؤں سے علاقہ کب تھا

    ایک محمل کے سرہانے کوئی رویا تھا ضرور

    پس محفل کسی لیلیٰ نے پکارا کب تھا

    تم یوں ہی ضد میں ہوئے خاک در مے خانہ

    مجھ کو یہ زعم کہ میں نے تمہیں ٹوکا کب تھا

    تم نے کیوں پاکئی داماں کی حکایت لکھی

    میرے سر کو کسی دیوار کا سودا کب تھا

    یاد کم کم ہے نہ چھیڑو مرے مکتوب کی بات

    وہ مروت تھی فقط حرف تمنا کب تھا

    دل نہ اس طرح دکھا صاف مکرنے والے

    مجھ کو تسلیم کہ تیری کوئی تقصیر نہ تھی

    یہ بجا ہے کہ تجھے ذوق نشیمن نہ ملا

    یہ غلط ہے کہ مجھے حسرت تعمیر نہ تھی

    سنگ باری میں یہ شیشے کا مکاں کس کا ہے

    اس در و بام میں خوشبوئے وفا کیسی ہے

    کس کی آواز سے دیواروں کے سینے میں فگار

    میرے معبود مرے گھر کی فضا کیسی ہے

    چھاؤں دیتے نہیں آنگن کے گھنیرے اشجار

    غم کی چھائی ہوئی گھنگھور گھٹا کیسی ہے

    ایک کونپل پہ تھا انگشت حنائی کا نشاں

    یہ لہو روتی ہوئی شاخ حنا کیسی ہے

    کس کی تصویر ہے یہ جس پہ گماں ہوتا ہے

    جانے کب بول اٹھے اف یہ ادا کیسی ہے

    کس نے تکیہ پہ یہ کاڑھا ہے گرے کا مصرع

    ہائے ٹوٹی ہوئی نیندوں کی سزا کیسی ہے

    سوچ میں گم ہوں کہ کس کس کی زباں بند کروں

    آج شاید در و دیوار کو ڈھانا ہوگا

    جس میں تو ہے ترے وعدے ہیں تری قسمیں ہیں

    کیا ستم ہے کہ اسی گھر کو جلانا ہوگا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Be-rang o naam - Shaz tamkanat نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY