بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

فہیم شناس کاظمی

بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    خواب گرمی کی چھٹیوں پہ گئے

    ہو گئے بند گیٹ آنکھوں کے

    عشق کو داخلہ ملا ہی نہیں

    خواہشیں لاکروں میں قید رہیں

    جو بکے اس کے دام اچھے ہوں

    زندگی ہو کہ کوئی تتلی ہو

    بے ثباتی کے رنگ کچے ہیں

    کون بتلائے ان زمینوں کو

    جنگلوں کے گھنے درختوں میں

    گر خزاں بیلے ڈانس کرتی ہو

    مصر کو کون یاد کرتا ہے

    کم نہیں لکھنؤ کی امراؤ

    اس سے بہتر یہاں پہ ہیں فرعون

    کون سا دیوتا اور کیا رعمیس

    مرزا واجدؔ علی بھی کم تو نہیں

    کون گریہ کرے، کرے ماتم

    کون تاریخ کشت و خوں کو پڑھے

    بے بسی گیت بنتی رہتی ہے

    دونوں آنکھوں کو ڈھانپے ہاتھوں سے

    مآخذ :
    • کتاب : Raah-daari mein gunjti nazm (rekhta website) (Pg. 130)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY