دعا

MORE BY فیض احمد فیض

    آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

    ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں

    ہم جنہیں سوز محبت کے سوا

    کوئی بت کئی خدا یاد نہیں

    آئیے عرض گزاریں کہ نگار ہستی

    زہر امروز میں شیرینی فردا بھر دے

    وہ جنہیں تاب گراں باری ایام نہیں

    ان کی پلکوں پہ شب و روز کو ہلکا کر دے

    جن کی آنکھوں کو رخ صبح کا یارا بھی نہیں

    ان کی راتوں میں کوئی شمع منور کر دے

    جن کے قدموں کو کسی رہ کا سہارا بھی نہیں

    ان کی نظروں پہ کوئی راہ اجاگر کر دے

    جن کا دیں پیروئ کذب و ریا ہے ان کو

    ہمت کفر ملے جرأت تحقیق ملے

    جن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کو

    دست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

    عشق کا سر نہاں جان تپاں ہے جس سے

    آج اقرار کریں اور تپش مٹ جائے

    حرف حق دل میں کھٹکتا ہے جو کانٹے کی طرح

    آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال بانو

    اقبال بانو

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    زہرا نگاہ

    زہرا نگاہ

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    RECITATIONS

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    حمیدہ بانو

    دعا حمیدہ بانو

    مآخذ:

    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 431)
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 429)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY