بھگت سنگھ کے نام

فہیم شناس کاظمی

بھگت سنگھ کے نام

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    کہیں جب سرفروشی کی

    محبت استقامت کی

    شہادت کی وطن کی بات چلتی ہے

    مجھے تم یاد آتے ہو

    یہ دھارے رک نہیں سکتے

    ستارے جھک نہیں سکتے

    کنارے دیکھتے رہنا

    نظارے رک نہیں سکتے

    ہوا بہتی ہی رہتی ہے

    سمندر سے سمندر تک

    لہو دریافت کرتا ہے

    نئی تحریک کا منشور

    یہ کرنیں درج کرتی ہیں

    ہر اک دھرتی پہ ہونے کا نیا دستور

    ہر اک رستے پہ ہیں دار و رسن کے نیلگوں سائے

    لہو سے آگ کی لپٹیں نکلتی ہیں

    قطاروں میں در زنداں پہ ہر لمحہ

    عجب سی بھیڑ رہتی ہے

    یہ کیسی آگ ہے جو سرد ہونے کو نہیں آتی

    یہ کیسا خواب ہے تعبیر آنکھیں چھین لیتی ہے

    شجاعت قرض ہوتی ہے

    محبت فرض ہوتی ہے

    کسی کرنل کے قتل عام سے لشکر نہیں رکتے

    صلیبوں سے نہیں ڈرتے

    لہو کے دھارے میں بہتے ستارے رک نہیں سکتے

    ابد کے آسمانوں سے اشارے رک نہیں سکتے

    عجب ہی لوگ ہوتے ہیں

    خود اپنی مٹی کی خاطر جو جان و تن لٹاتے ہیں

    غضب ہی لوگ ہوتے ہیں

    کہ جو تاریخ کے دھارے کے رخ کو موڑ دیتے ہیں

    محبت کرنے والے لوگ پاگل لوگ ہوتے ہیں

    کسی سے جو نہیں ڈرتے

    یہ وہ دریا ہیں جن کی آخری منزل

    ابد کا آخری ساحل

    یہ وہ دریا سمندر جن کا رستہ ہے

    سمندر کس سے کب تسخیر ہوتا ہے

    سمندر ہے زمانہ

    اور زمانہ کس سے کب زنجیر ہوتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Duniya Zade (Pg. 173)
    • Author : ASIF FARRUKHI
    • مطبع : Scheherzade (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY